اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ارجینٹائنا ک خاتون صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں صہیونی اور امریکہ کے ایسے پرخچے اڑائے کہ آن لائن ترجمہ کرنے والوں نے ترجمہ کرنا چھوڑدیا اور ذرائع ابلاغ نے ان کے خطاب کو نشر نہیں کیا۔
ارجینٹائنا کے صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اہم اور مختلف نوعیت کی باتیں کیں کہ جنہوں نے دنیا کے ذرائع ابلاغ کو ان کی تقریرسینسر کرنے پر مجبور کر دیا ،ایسی تقریر کہ جس میں صراحت کے ساتھ دنیا میں امریکہ کے جھوٹ سے پردہ اٹھایا گیا، اور اہم ترین موارد میں جمہوری اسلامی ایران کی مداخلت کو، بوئنس آئرس کے دھماکوں میں سال ۱۹۹۴ میں رد کیا اور شام کی موجودہ حکومت ،حزب اللہ اور غزہ کی حمایت میں ایسی باتیں کیں جو اس مقام پر بڑے بڑے مرد بھی نہیں کہہ سکے۔
ارجینٹائنا کے صدر فرنانڈیز نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر میں کہ جس کو دنیا کے سرکاری ذرائع ابلاغ میں نشر ہونے سے روک دیا گیا تھا جبکہ وہ سوشیل نیٹ ورک کے ذریعے بڑے پیمانے پر نشر کی گئی کہا :ایک سال سے آپ بشار اسد کی حکومت کو دہشت گرد حکومت کہہ رہے تھے ۔آپ ان کے مخالفین کی انقلابی سمجھ کر حمایت کر رہے تھے اور آج انہیں انقلابیوں کو روکنے اور انہیں نابود کرنے کے لیے عالمی اتحاد قائم کر رہے ہیں چونکہ اب وہ آپ کی نظر میں دہشت گرد ہیں،اور ان میں سے اکثر، دہشت گرد جماعتوں کے رکن ہیں اور انتہا پسندی سے مزید انتہا پسندی کی طرف منتقل ہوئے ہیں ۔
فرنانڈیز نے مزید کہا :اس سے پہلے لبنان کی حزب اللہ کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں رکھا گیا تھا جب کہ اب پتہ چلا ہے کہ حزب اللہ لبنان ایک بڑی اور سرکاری طور پر تسلیم شدہ پارٹی ہے ۔
ارجینٹائنا کے صدر نے کہا : ۱۹۹۴ میں بوئنس آئرس میں اسرائیل کے سفارتخانے میں دھماکہ ہوا تو آپ نے اس کا الزام ایران پر لگا دیا لیکن ہم نے جب تحقیق کی تو پتہ چلا کہ ایران کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں تھا۔
انہوں نے واضح کیا :آپ نے ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کے واقعات کے بعد القاعدہ کے خلاف جنگ کی قرار دادیں منظور کیں اور چند ملکوں میں فوجی مداخلت کا دستور صادر کر دیا اور عراق اور افغانستان میں بے گناہ لوگ اس بہانے سے مارے گئے جب کہ یہ دو ملک دہشت گردی کے فتنے سے بدستور رنج اٹھا رہے ہیں !ارجینٹائنا کے صدر نے مزید کہا : غزہ پر بمباری سے اسرائیل کے جرائم کی شدت کا اندازہ ہو گیا ہے بڑی تعداد میں فلسطینی قربانی بن گئے ہیں حالانکہ اسرائیل پر لگنے والے میزائلوں کو آپ نے اہمیت دی جبکہ ان کا کوئی اثر نہیں ہوا اور نہ ان سے کوئی نقصان پہونچا۔
فرنانڈیز نے کہا :آج ہم اس مقام پر کھڑے ہیں کہ ایک قرار داد بین الاقوامی سطح پر داعش کو مجرم قرار دینے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے منظور کریں جب کہ معلوم ہو چکا ہے کہ چند ملکوں نے داعش کی حمایت کی ہے اور آپ دوسروں سے زیادہ ان کو پہچانتے ہیں ،اور داعش سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے رکن بڑے ممالک کا حلیف ہے !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲